الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سود پر قرض لینا

سوال

زید کو روپیہ کی اشد ضرورت پیش آئی، اور اس نے بہ مجبوری اپنی جائیداد رہن رکھ کر سود پر روپیہ قرض لے لیا، ایسی حالت میں جب کہ سخت مجبوری کی حالت میں سود پر روپیہ لیا جائے تو اس کے لئے کیا حکم ہے، اور کیا زید بحالت مجبوری اس فعل سے گنہگار ہوگا یا نہیں؟

جواب

سود دینا حرام ہے، ایسے شخص پر حدیث شریف میں لعنت وارد ہوئی ہے، حرام کا ارتکاب اضطرار کی حالت میں معاف ہے پس اگر جان کا قوی خطرہ ہے یا عزت کا قوی خطرہ ہے۔ نیز اور کوئی صورت اس سے بچنے کی نہیں مثلاً نہ جائیداد فروخت ہوسکتی ہے، نہ روپیہ بغیر سود کے مل سکتا ہے، تو ایسی حالت میں زید شرعاً معذور ہے، اور اگر ایسی ضرورت نہیں، بلکہ کسی اور دنیوی کا روبار کے لئے ضرورت ہے، یا روپیہ بغیر…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو