الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سرکاری قرضه

سوال

مرکزی و صوبائی حکومتیں کاروبار کارخانہ جات اور دوسری صنعتوں وغیرہ کی ترقی و ترویج کے واسطے روپیہ اور دوسری چیزیں بطور قرض معمولی سود پر دیتی ہیں، آپ بخوبی واقف ہیں کہ حکومت کے پاس جو روپیہ ہوتا ہے، وہ سب پبلک سے ہی حصول کیا ہوا ہوتا ہے، یا وہ رقم ہوتی ہے، جو ہماری حکومت دوسری حکومتوں سے قرض کی شکل میں یا امداد کی شکل میں حاصل کرتی ہے۔ (الف) کیا حکومت سے سود پر انفرادی کاروبار یا کارخانہ جات کیلئے روپیہ قرض لیا جاسکتا ہے؟ (ب)

جواب

حکومت نے جو روپیہ دوسری حکومتوں سے قرض لیا ہے، وہ اس کی مالک ہو گئی، اور واپسی کی ذمہ داری ہے، جو روپیہ پبلک سے قانونی حد میں یا قاہرانہ قوت سے لیا ہے، وہ بھی استیلاء کی وجہ سے اس کی ملک میں آگیا۔ (الف) سودی معاملہ کرنا جائز نہیں ہے، سود قلیل ہو یا کثیر اگر پبلک اس روپے کو اپنے ملک تصور کر کے قرض کے نام پر لے اور سود دے تو یہ مزید خسارہ ہے کہ اپنا ہی روپیہ لیا ہے، پھر اس کو…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو