سودی قرض سے بنائے ہوئے کپڑے استعمال کرنا
سوال
احقر کے والدین کا انتقال ہو چکا ہے، اور ہم دو بھائی اور ایک بہن ہیں، اور احقر چھوٹا ہے، جائداد مورثہ پر بھائی صاحب ہی کی نگرانی ہے اور ابھی تک تقسیم نہیں ہوئی احقر مدرسہ اسلامیہ فیض العلوم حیدرآباد میں ملازم ہے۔ گو بھائی صاحب زراعت پیشہ ہیں لیکن حال ہی میں انہوں نے احقر کو کپڑے بنائے ہیں، ان سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ سودی قرض لے کر کپڑے بنائے ہیں، احقر کا مقصد تھا کہ اپنا حق جائداد یعنی آمدنی سے اپنا حصہ حاصل کروں، لیکن انہوں نے بغیر حساب آمدنی بتلائے کپڑے بنوا دئے، اور نقد ۷۵ روپیہ دیئے پوچھنے پر انہوں نے…
جواب
سود لینا اور دینا کبیرہ گناہ ہے۔ لیکن جو روپیہ نقد آپ کو قرض لے کر دیا ہے، وہ سود نہیں ہے، اس طرح قرض لے جو کپڑا بنا کر دیا ہے، وہ بھی سود نہیں آپ کے لئے جائز ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔