بیمہ کے ذریعہ ملنے والی رقم کی وصیت
سوال
فروری کے الفرقان لکھنو میں خصوصی حالات اور شرائط کے ساتھ بیمہ زندگی کے اباحت کی تائید کی برائے کرم تحریر فرمائیے، کہ مروج ذیل شرائط کے تحت زندگی کا بیمہ کروانا چاہئے یا نہیں؟ میری تنخواہ کافی ہے، مگر کچھ نہیں بچتا میری ملازمت اس پر کہ پنشن نہیں ملے گی، بلکہ کچھ فنڈ ملے گا میں چاہتا ہوں کچھ رقم پس پشت رہے تا کہ ملازمت کے خاتمہ پر وہ رقم میرے کام آئے میں بیمہ کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھانا چاہتا، مثلاً سود ملے یا میرے انتقال کے وقت پر بیمہ کو مقرر کردہ رقم جو اصل اقساط کو ادا کردہ رقم سے زائد ہوتی ہے، اس لئے میں وصیت…
جواب
صورت مسئولہ میں اگر چہ آپ کا مقصود سود حاصل کرنا اور اس سے نفع اٹھانا نہیں ہے، محض اپنے بعد کچھ پس انداز کرنا ہے، اور بشکل سود حاصل ہونے والی رقم کے صرفہ کرنے کی وصیت کرنے کا ارادہ ہے، لیکن آپ کی جمع کردہ رقم کو واپس سودی تجارت میں صرف کرے گی، یہ اس کی اعانت ہے، اس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے، نیز وصیت کا پورا کرنا ورثہ کے اختیار میں ہے، اور وہ ایک ثلث ترکہ میں وصیت کے نافذ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔