مرہون سے نفع اٹھانا
سوال
عام طور پر راہن مرتہن کے درمیان یہ بات طے شدہ ہوتی ہے کہ مرتہن مرہونہ چیز سے فائدہ حاصل کرے، مثلاً مکان کا کرایہ اور زمین کی پیداوار سے فائدہ اٹھائے، لیکن یہ بات نا جائز بھی سمجھی جاتی ہے، کتاب مفید المفتی و مستفتی اردو فتاویٰ عزیزی، ص ۵۹، ۶۰ / پر حسب ذیل عبارت مطالعہ سے گذری، مگر فقیر کے نزدیک تحقیقی بات یہ ہے کہ ایسی صورتوں میں رواج و عادات کے موافق ہبہ کے لفظ کو اباحت یعنی فائدہ اٹھانے کی اجازت دینے میں سمجھنا چاہئے، پس روپ داس نے جو باقی شاہ کو اپنی مرہونہ زمین کے محصول اور پھلوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دیدی،…
جواب
یہ فائدہ اٹھانا بالکل ناجائز ہے خواہ راہن نے صراحۃً اجازت دیدی ہو یا عرفاً رواج ہو، جن لوگوں نے اجازت راہن کے بعد جائز سمجھ لیا ہے، ان پر علامہ شامی نے ردالمحتار میں رد کیا ہے، اور مولانا عبدالحی صاحب نے مستقل ایک رسالہ اس مسئلہ پر لکھا ہے جس میں قطعاً ناجائز قرار دیا ہے، اور کتب فقہ کی عبارات کو نقل کیا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔