الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

انتفاع از رہن

سوال

زید نے عمر کو ایک ہزار روپے دیئے اور اس کی دس بیگہ زمین اس سے لے لی اس شرط کے ساتھ کہ بیس روپے لگان کے انہیں روپوں سے کاٹے جائیں گے، تو یہ معاملہ جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز نہیں تو جواز کی کیا صورت ہے؟

جواب

بظاہر یہ ایک ہزار روپے قرض ہے اور دس بیگھہ زمین رہن ہے، رہن سے نفع اٹھانا درست نہیں ہے، اسکے ساتھ ہی یہ طے کرنا کہ بیس روپے لگان اسی ایک ہزار روپے سے لیا جائیگا، تو یہ اجارہ ہو گیا، ایک عقد میں دو معاملے کرنا (ایک رہن دوسرا اجارہ)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو