کیا حضور ﷺ نے کسی کے لئے بددعاء فرمائی ہے
سوال
زید اور بکر میں موضوع بحث یہ ہے کہ حضور ﷺ نے کسی کے لئے بددعاء نہیں فرمائی ہے کیونکہ آپ رحمۃ للعالمین تھے۔ بکر کہتا ہے کہ بعض مرتبہ شریعت کے معاملہ میں حضور ﷺ نے بد دعا فرمائی ہے۔ جیسا کہ ترجمہ بخاری شریف پارہ ۱۰ / مطبوعہ رساله مولوی دہلی حدیث ۶۴ رکا ترجمہ اس طرح پر تحریر ہے۔ کہ حضرت عبداللہ ابن عباس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ نے اپنا خط ایک شخص کو دے کر حکم دیا کہ حاکم بحرین کو پہنچا دینا حاکم بحرین نے وہ خط لے کر کے کسری (شاہ ایران) کو پہنچا دیا۔ کسری نے آپ کے خط کو پارہ پارہ کر دیا۔
جواب
حضرت نبی اکرم ﷺ نے اور بھی مواقع پر ظالموں کے لئے بد دعا فرمائی ہے۔ نماز میں قنوت نازلہ بھی پڑھی۔ خاص خاص آدمیوں کے نام لے کر کے بددعا فرمائی ہے۔ پھر آیت نازل ہوئی لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمُ ظَالِمُون اس کے بعد سے بد دعا فرمانا بند فرما دیا تھا، لہذا اب تعارض نہ رہا، عادت مبارکہ یہ بھی تھی کہ اپنی ذات خاص کے لئے آپ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔