ایک واقعہ سن کر اس میں شک پھر معلوم ہوا کہ یہ حدیث ہے اب کیا کرے
سوال
کسی مقرر سے زید نے کوئی حدیث کا واقعہ سنا اور پھر اسے یاد نہیں رہا کہ یہ حدیث ہے یا نہیں؟ مگر زید نے موسیٰ سے یہ واقعہ بیان کر کے کہا کہ میں نے یہ واقعہ فلاں مقرر سے سنا۔ موسیٰ نے انکار کیا اور کہا کہ مجھے اس میں شک ہے۔ ایسا واقعہ غلط ہے اور پھر معلوم ہوا کہ یہ تو حدیث میں ہے۔ پھر انکار کرنے والے سے کہا کہ بھائی یہ تو میں نے حدیث کی بات سنائی تھی تب بات کو ٹال مٹول کر کے ختم کر دیا۔
جواب
بلا تحقیق نہ کسی بات کو حدیث شریف کی طرف منسوب کیا جائے اور نہ کسی ثابت شدہ حدیث کا انکار کیا جائے۔ اگر کوئی بات کسی مقرر سے سنی اور دل نے اس کو قبول نہ کیا اس وجہ سے اس کا انکار کر دیا۔ پھر معلوم ہوا کہ یہ بات حدیث پاک میں ہے، تو پھر انکار سے رجوع کر لیا جائے اور اس بات کو تسلیم کیا جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔