گناہ معاف ہونے کی ایک روایت
سوال
ایک شخص نے بعد عصر کے بیان کیا بھائیو! کبیرہ گناہ بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوسکتا مگر جو شخص یہ عمل کرے، اس نے بیان کیا کہ باب جنت میں لکھا ہوا ہے۔انی انا الله لا اله الا انا محمد رسول الله . اس کلمہ کے پڑھنے سے ایک لاکھ چوبیس ہزار گناہ معاف ہوتے ہیں۔ اور بیان کیا کہ جو شخص جنازہ کے پیچھے چلے اس کے چالیس کبیرہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ کیا یہ احادیث صحیح نہیں۔ اس کا حوالہ کیا ہے؟
جواب
میں نے یہ حدیث کتاب میں نہیں دیکھی، کلمہ طیبہ صدق دل سے اگر کوئی کافر شخص پڑھ لے گا تو گناہ تو کیا اس کا کفر بھی معاف ہو جاتا ہے۔ اور وہ ایسا ہو جاتا ہے جیسے ابھی پیدا ہوا ہو۔ لیکن قبول اسلام کے بعد جو گناہ کئے ہوں ان کے اتنی تعداد میں معاف ہونے کے لئے محض کلمہ شریف پڑھ لینا میں نے کسی حدیث میں نہیں دیکھا۔ جنازہ کے متعلق جو روایت بیان کی گئی ہے وہ مراقی الفلاح میں موجود ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔