الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسئله شفاعت

سوال

مولانا صاحب بی اے منشی فاضل فرماتے ہیں کہ شفاعت کوئی نہیں کرائے گا۔ کیا قرآن مجید میں ارشاد باری یہ نہیں ہے۔ عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَاماً مَّحْمُوداً . اس سے رسول کریم ﷺ کا شفاعت فرمانا ثابت نہیں ہوتا۔ بخاری شریف پارہ اٹھارہ کتاب التفسیر میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے قیامت کے دن ایماندار لوگ جمع ہو کر حضرت آدم علیہ السلام سے سفارش کرنے کی آرزو کریں گے حضرت آدم علیہ السلام انکار کریں گے بعد اس کے یکے بعد دیگرے پیغمبروں سے عرض کریں گے سب انکار کریں گے تب رسول کریم ﷺ کی خدمت…

جواب

شرح عقائد نسفی ص ۸۸ نیز بہت سی آیات سے بھی استدلال کرتے ہیں اور آیت عسی ان رَبُّكَ مَقَاماً مَّحْمُوداً کے متعلق بھی جمہور قائل ہیں کہ مقام محمود مقام شفاعت ہے۔ تفسیر مدارک التنزیل میں اس آیت کے ذیل میں لکھا ہے۔ نصب على الظرف .

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو