فجر کے بعد اشراق تک ذکر میں مشغول رہنا
سوال
فجر کی فرض نماز کے بعد بعض لوگ مصلے پر بیٹھے رہتے ہیں۔ طلوع آفتاب کے بعد بہ نیت اشراق دوگانہ چار رکعت نماز پڑھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے حج و عمرہ کا ثواب ملتا ہے۔ اس روایت کی کیا اصل ہے۔ آنحضرت کے متعلق فرض کے بعد مصلے پر بیٹھے رہنا تو ثابت ہے لیکن دوگانہ نماز پڑھنے کا ثبوت نہیں ملتا۔ مسئلہ کی پوری تحقیق فرمائیں۔
جواب
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمُ مَنْ صَلَّى الْفَجْرَ فِي جَمَاعَةِ ثُمَّ قَعَدَ يَذْكُرُ اللَّهِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَانَتْ لَهُ كَاجْرِ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَامَّةٍ تَامَّةٍ تامة رواه الترمذى مشكوة شريف ص ۸۹…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔