الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

چند احادیث کی تحقیق

سوال

ایک اہل حدیث سے واسطہ پڑا اس نے مندرجہ ذیل احادیث کی نشاندہی کے بارے میں کہا۔ تا ہم صحاح ستہ میں ہونی چاہئے اور سند واضح الدلالت ہونی چاہئے۔ مذکورہ بالا احادیث کی نشاندہی فرماتے ہوئے اگر کچھ ان کے مسلک پر رد ہو جائے اور ان کے اعتراضات پر کہ ہم اقتداکس امام کی کریں۔ آج یہ ایک بات ہے کل کو دوسری تیار ہو جاتی ہے۔ لہذا ہم تو ڈر سے کہ حضور نے جو کچھ فرمایا ہم اس کو مانتے ہیں۔ ان تمام چیزوں پر روشنی ڈال دی جائے تو بہتر ہوگا۔ تا ہم اقتداء کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے اور بغیر اقتداء وتقلید کے چارہ کار کیوں نہیں ہے۔

جواب

ان الفاظ کے ساتھ یہ کتب صحاح میں موجود نہیں۔ البتہ العلماء ورثة الانبیاء کو ابوداؤدؓ ترمذیؓ احمدؓ وغیرہ ائمہ کرام نے روایت کیا ہے۔ ابونعیم نے مرفوعاً اقرب الناس من درجة النبوة اهل العلم والجهاد کو روایت کیا ہے۔ (۲) ملا علی قاری نے اس کو بحوالہ قرطبی و بیہقی نقل کیا ہے۔ علامہ سخاوی نے بجائے ”امتی“ کے ” اصحابی نقل کیا ہے اور جملہ مسئولہ ایک ٹکڑا ہے حدیث کا پوری روایت اس طرح ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو