الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

آیت سجدہ کی تفصیل

سوال

یہ دونوں احادیث مسلم و ترمذی سے مروی ہیں جن کو ابن کثیر اپنی تفسیر پارہ ۱۸ اور ۲۲ میں لائے ہیں۔ (الف) سورہ حج کو دو سجدوں سے فضلیت دی گئی ہے، جو ان پر سجدہ نہ کرے وہ اسے پڑھے ہی نہیں؟ (ب) اہل جہنم پانچ قسم کے ہیں وہ بے وقعت کمینے لوگ جو بے زر اور بے گھر ہیں اور جو تمہارے دامنوں سے لیٹے رہتے ہیں۔

جواب

(الف) آیت سجدہ پڑھ کر مستحب یہ ہے کہ جلد ہی سجدہ کر لیا جائے جو شخص بے وضو ہو وہ حفظ تلاوت تو کر سکتا ہے مگر سجدہ نہیں کر سکتا۔ اس لئے باوضو تلاوت کرنا اعلیٰ بات ہے تا کہ آیت سجدہ جب آئے تو فوراً سجدہ کرلے۔ جو شخص بے وضو ہو وہ ایسی سورت تلاوت کرے جس میں سجدہ نہ ہو۔ ایسی سورت تلاوت نہ کرے جس میں سجدہ ہو۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو