لیلۃ القدر کی تعیین کی فراموشی
سوال
مشہور ہے کہ حضور اکرم کو لیلۃ القدر متعین کر کے بتلا دی گئی تھی۔ حضور لوگوں کو مطلع کرنے کے لئے حجرہ مبارکہ سے باہر تشریف لائے۔ دو شخصوں میں تنازع ہورہا تھا، آپ ان کے چکانے میں مشغول ہو گئے، اسی جھگڑے میں اس قدر دیر ہوگئی کہ قلب مبارک سے ذہول ہو گیا۔ یہ واقعہ احادیث سے ثابت ہے یا محض زبان زد ہے۔ اگر حدیث شریف سے ثابت ہے تو کس کتاب میں ہے؟ اور اس کے راوی قابل اعتبار ہیں یا نہیں؟ اور یہ واقعہ کس سن میں پیش آیا؟
جواب
یہ حدیث جمع الفوائد میں ص۴۴/پر بخاری، مسلم، ابوداؤد شریف، نسائی، ابن ماجہ کے حوالہ سے مذکور ہے۔ سن معلوم نہیں۔ حدیث مستند و معتبر ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔