نکاح کے بعد ”اللَّهُمَّ اَلِفُ بَيْنَهُمَا كَمَا الَّفْتَ بَيْنَ يُوسُفَ وزليخا عليهما السلام کی تحقیق
سوال
یہاں کے قاضی صاحبان نکاح کے بعد دعا میں یہ بھی پڑھتے ہیں اللهم الف بينهما كما الفت بين يوسف وزليخا عليهما السلام بعض صاحبان فرماتے ہیں کہ یہ الفاظ دعا میں شریک نہ کرو۔ کیونکہ حضرت یوسف و زلیخا علیہما السلام کو دعا میں شامل کرنا اچھا نہیں ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا زلیخا کے ساتھ نکاح نہیں ہوا تھا۔ کیا ان لوگوں کی بات درست ہے؟ اور کیا اس طرح دعا مانگنا گناہ ہے؟
جواب
بعض کتب میں نکاح ہونا مذکور ہے۔ البتہ قرآن کریم وصحاح کی کتب میں نکاح ہونا مذکور نہیں۔ حدیث شریف میں اللهم الف بينهما كی دعا کے ساتھ کما الفت بین یوسف وزليخا عليهما السلام کو نہیں دیکھا۔ حدیث پاک میں جو الفاظ آئے ہیں ان میں برکت ہی برکت ہے۔ دوسرے الفاظ میں وہ بات نہیں۔ کوئی شخص اگر دعا میں ایسا کہے تو اس سے لڑنے کی بھی ضرورت نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔