قرآن پاک کو بے وضو چھونا کیسا ہے؟
سوال
قرآن کو بے وضو چھونا کیسا ہے۔ ایک صاحب کا کہنا ہے کہ لا یمسه الا المطهرون سے باوضو چھونے کا حکم ثابت نہیں ہوتا کیونکہ المطهرون سے فرشتے مراد ہیں کیا یہ صحیح ہے؟ بحوالہ تفسیر وحدیث تحریر فرمائیں۔
جواب
لا يمسه کو اگر خبر مانا جائے تو مُطَهَّرُونَ سے مراد ملائکہ ہیں اور ضمیر مفعول راجع ہوگی كِتَابٌ مَّكْنُونٌ کی طرف جس سے مراد لوح محفوظ ہے اگر اس کو نہی مانا جائے تو اس سے مقصد یہ ہوگا کہ قرآن پاک کو بلا طہارت کے مس نہ کیا جائے۔ حافظ ابوبکر جصاص نے اس کو اولی قرار دیا ہے اور حدیث عمرو بن حزم کو استدلال میں پیش کیا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔