کیا ظالم کے لئے ہدایت ہے؟
سوال
قرآن شریف میں ”إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّلِمِينَ “ اس میں مسلمان ظالم بھی شامل ہیں ظالم مسلمان یا ظالم کافر کی ہدایت کے لئے دعا مقبول ہوتی ہے یا نہیں؟ یہاں ہدایت کی نفی سے کیا مراد ہے؟
جواب
اصل ظالم مشرک ہے جس کیلئے ”لا یھدی “ وارد ہے ”إِنَّ الشَّرُكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ الآیة۔ ہدایت کی نفی سے تکوینی نفی مراد ہے۔ تشریعی مراد نہیں لہذا ہر ظالم اور کافر کے لئے دعاء ہدایت درست ہے کسی کی موجودہ حالت کو دیکھ کر حتمی رائے قائم کرنا دشوار ہے کہ اس کا خاتمہ اسی حال پر ہوگا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔