استخلاف فی الارض کا وعدہ
سوال
سورہ نور میں استخلاف فی الارض کا وعدہ ہے یہ وعدہ امت محمدیہ ﷺ جو احکام خداوندی کو پورا پورا بجالاتے ہیں ان کے ساتھ ہے یا کوئی بھی امت ہو جو احکام خداوندی کو پورا پورا بجا لاتے ہیں ان کے ساتھ رہا ہے یعنی یہ آیت تعمیم کا حکم رکھتی ہے یا مقید کا اس شرط کے ساتھ جو قوم رائج الوقت احکام خداوندی کو پورا پورا بجالائیں گی اس کو ممکن في الارض حاصل ہو گا یا صرف امت محمدیہ۔
جواب
اس آیت میں جو مخصوص وعدہ ہے وہ اکثر مفسرین کے قول کے موافق شیخین کے زمانہ میں پورا ہو چکا۔ جیسا کہ خطاب منکم اس پر شاہد ہے اور کما استخلف الذين من قبلهم سے اشارہ ہے اس طرف کہ موسیٰ علیہ السلام کی قوم کو بھی استخلاف فی الارض جبارین کے مقابلہ میں حاصل ہوا تھا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔