الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ضُربَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ كا مطلب

سوال

قرآن پاک میں ارشاد خداوندی ہے ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ الآیة یہود کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ہمیشہ ذلیل و خوار رہیں گے ان کو بھی اقتدار حاصل نہیں ہوگا۔ میرا ایمان یہی ہے اور یقین بھی ہے لیکن آج جب کہ ایک صاحب نے یہ اعتراض کیا کہ جناب والا ان کی آج حکومت ہے فلسطین پر قابض ہیں عرب مسلمان پریشان ہیں یہ اعتراض سن کر میں تو بغلیں جھانکنے لگا اور پسینہ آ گیا۔ میں کم علم کیا کچھ پڑھا لکھا ہی نہیں صرف مولوی نما ہوں۔

جواب

ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ الخ میں سلطنت کی نفی کہاں ہے کہ موجودہ حالات سے معارضہ کیا جائے۔ جب تک کسی آیت یا قوی روایت سے سلطنت یہود کی ہمیشہ کے لئے نفی ثابت نہ ہو قرآن وحدیث کی تکذیب نہیں کی جاسکتی۔ حضرت نبی اکرم ﷺ کے وقت میں جو یہودی تھے اول ان کو معاہدہ میں شریک کیا گیا۔ مگر ان کی کمینہ حرکات ختم نہ ہوئیں دو قبیلے بنونضیر۔ بنو قریظہ تھے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو