الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تفسير لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ

سوال

زید کا کہنا ہے آیہ کریمہ إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ فِي كِتَابٍ مَّكْنُونِ لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ تَنْزِيلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعَلَمِينَ میں جملہ لا یمسہ کے متعلق مفسرین کے دو قول ہیں۔ پہلا قول جو حضرت عباسؓ سے مروی ہے کہ جملہ لا یمسه - کتاب مکنون کی صفت ہے اور کتاب مکنون سے مراد لوح محفوظ ہے اور مطهرون سے مراد ملائکہ ہیں۔ یہی تفسیر حضرت انس، مجاہد، عکرمہ، سعید بن جبیر ضحاک، جابر بن زید، عبد الرحمن ابن زید ابو نہیک ابوالعالیہ قتادہ زیدا ماده و غیر ہم سے منقول ہے۔

جواب

اس آیت کی تفسیر میں دو قول ہیں اول یہ کہ ضمیر منصوب لا یمسہ میں راجع ہے کتاب مکنون کی جانب اور مطهرون سے مراد ملائکہ ہیں اور دوسرا قول یہ ہے کہ ضمیر منصوب قرآن کریم کی طرف راجع ہے اور مطهرون سے وہ لوگ مراد ہیں جو با غسل اور باوضو ہوں۔ تفسیر مدارک التنزیل ص ۶۷ ارج ۴ر میں ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو