الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَّبِّهِ كَلِمَاتٍ کی تشریح

سوال

سورۃ البقرۃ کے بارے میں آیت نمبر ۳۷ ترجمه روشن چراغ ص ۱۷۔ ترجمہ: (پھر آدم نے اپنے پروردگار سے کچھ کلمات سیکھے اور معافی مانگی) تو اس نے ان کا قصور معاف کر دیا بے شک وہ معاف کرنے والا اور صاحب رحم ہے۔ (نوٹ) لوگ کہتے ہیں کہ آدم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعائوں کی کہ اللہ تیرے نام کے برابر نام جو نام نامی تحریر تھا عرش اعظم لوح محفوظ پر اس کے صدقہ میرا قصور معاف فرمادے تو اللہ تعالیٰ نے قصور معاف فرما دیا تو کیا یہ روایت درست ہے، اور قرآن پاک کی آیت اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ خاص کلمات یاد کرائے…

جواب

اس آیت سے متعلق یہ بھی ایک قول ہے جس کو روح المعانی شخص ۳۳۷ میں قیل کے ساتھ نقل کیا ہے۔ قیل رأى مكتوباً على ساق العرش محمد رسول الله فتشفع به حضرت ابن عباس سے جو قول مشہور ہے وہ یہ ہے کہ اس کا مصداق رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَّمْ تَغْفِرُ لَنَا الآية حضرت ابن مسعود سے مروی ہے کہ اس کا مصداق سبحانك اللهم وبحمدك وتبارک اسمک وتعالى جدك لا اله الا انت ظلمت نفسی فاغفر…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو