اسْجُدُو الادم کا خطاب کیا شیطان کو بھی ہے
سوال
جب ابلیس مطابق آیت خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ قوم جن سے ہوا تو وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ کا مخاطب ہو کر کیسے خاطی بنا؟
جواب
اس آیت کی متعدد تفسیریں ہیں اور ابلیس کے بارے میں مختلف اقوال ہیں ایک قول یہ ہے کہ ابلیس قوم جن سے ہے پھر خاطی کیوں ہوا جواب یہ ہے کہ سجدہ کا حکم جنات کو بھی تھا اور ملائکہ کی تخصیص خطاب میں شرافت کی وجہ سے تھی یہ قاعدہ ہے کہ جب کسی کی تعظیم کے لئے حکم کیا جاتا ہے تو بڑوں کو خطاب کیا جاتا ہے اور چھوٹے تبعاً اس میں داخل ہو جاتے ہیں اور اپنے آپ کو تعظیم کے لئے بڑوں کا خود بخود…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔