الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

آیات منسوخہ کی تلاوت کا حکم

سوال

(۱) کیا کلام مجید میں ایسی آیت بھی ہے جس کا حکم منسوخ ہو چکا ہو مگر صرف تلاوت کی جاتی ہو؟ (۲) کیا بعض آیات ایسی بھی ہیں جو موجودہ قرآن مجید میں درج نہیں ہیں مگر ان کا حکم جائز اور باقی ہے؟

جواب

اس مسئلہ میں مستقل کتابیں تصنیف کی گئی ہیں جن میں نسخ کی تعریف، منسوخ کے اقسام، ناسخ کے اقسام و منسوخ کے احکام درج ہیں۔ بطور مثال ایک آیت درج کرتا ہوں۔ كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِنْ تَرَكَ خَيْرَ الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ والاقربين (الآیة) پہلے والدین کے حق میں مال کی وصیت کی جاتی تھی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو