الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

عورت کو قاضی بنانا

سوال

مقدمات فیصلہ کرنے کیلئے عورت کو قاضی بنانا شرعاً درست ہے یا نہیں؟ اگر وہ شریعت کے مطابق فیصلہ کرے تو وہ قابل اعتبار ہوگا یا نہیں؟

جواب

جن امور میں عورت کی شہادت معتبر ہے ان امور میں اس کا فیصلہ بھی معتبر ہوگا، جبکہ وہ شریعت کے مطابق ہو لیکن اس کو قاضی بنانے والا گنہگار ہوگا، جن امور میں اس کی شہادت معتبر نہیں ان امور میں اس کا فیصلہ بھی معتبر نہیں، جیسے حدود قصاص” والمرأة تقضى في غير حد و قود وان اثم المولى لها قوله في غير حدالخ لانها لا تصلح شاهدة فيهما فلا تصلح حاكمة، شامی، ج ۴، ص ۳۵۶ مطبوعہ نعمانیہ۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو