دار القضاء کا قیام ایک قاضی ہوتے ہوئے دوسرے کا تقرر
سوال
خدا تعالیٰ نے آیت کریمہ فان تنازعتم في شيئي فردوه الى الله والرسول“ میں مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ ہر قسم کے خصومات کا فیصلہ کتاب اللہ وسنت رسول اللہ ﷺ کے مطابق کرائیں، مگر بعض مخصوص مسائل مثلاً خیار بلوغ، حرمت مصاہرت وغیرہ ایسے ہیں جن کا فیصلہ کتاب وسنت کے مطابق قاضی شریعت سے کرانا شرط ہے، اس لئے ان مخصوص خصومات کا فیصلہ قاضی کے علاوہ کوئی دوسرا کرے گا تو وہ فیصلہ شرعاً معتبر اور نافذ نہ ہوگا، ہم مانتے ہیں کہ قاضی سے مراد مسلم جج ہے لیکن ہندوستان میں حکومت کی قائم کردہ عدالتوں میں اولا مسلم جج خال خال ہی ہوتا…
جواب
قاضی کیلئے سلطان کی طرف سے منتخب ہونا ضروری ہے، سلطان کا منشور اس کے لئے ہدایت نامہ ہوگا، اور اسی وجہ سے اس کو قوة منفذہ حاصل ہوگی، تا کہ وہ قاضی کے فیصلہ سے انحراف نہ کر سکے، انحراف کرنے پر مستحق تعزیر قرار دیا جائے، یہ صورت اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے یہاں نہ اب موجود ہے، نہ پچاس یا ساٹھ سال پہلے تھی، زعماء ملت نے انگریز کے شراقتدار سے نکالنے کے لئے امارات شرعیہ قائم کی تھی،…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔