فاسق کو قاضی بنانا
سوال
زید علم دینیات سے ناواقف اور سارق سزا یافتہ ہے، سرقہ داڑھی منڈاتا اور تارک الصلوٰۃ ہے اور اس کے اور بھی اعمال خلاف شرع ہیں تو ایسی صورت میں زید شرعی عہدہ قضاء کے لائق و موزوں ہو سکتا ہے یا نہیں؟
جواب
صورت مسئولہ میں افعال مذکورہ کی وجہ سے زید فاسق ہے، لہذا عہدہ قضاء کے لئے شرعاً موزوں نہیں عادل اور امین اور صالح کو قضاء کا عہدہ سپرد کرنا مناسب اور موزوں ہے، البتہ اگر قاضی بنا دیا گیا تو قاضی بنجائے گا، اور اس کی قضاء نافذ ہوگی، جبکہ اس میں حدود شرعیہ سے تجاوز نہ ہو ” فى الكنز والفاسق اهل للقضاء كما هو اهل للشهادة الاانه لا ينبغي ان يقلد وفى البحر لا ينبغى تقليده لان القضاء…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔