الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تحکیم کا طریقہ

سوال

ہمارے یہاں قصبہ میں ایک عالم ہیں جو کہ سیاست سے بھی شغل رکھتے ہیں، ان کو ہم نے اپنے اور پڑوسی کے درمیان ایک نزاع میں کچھ لوگوں کے اصرار سے فیصلہ کرنے کی درخواست اس طرح کی تھی جو بعینہ نقل ہے۔ میں اپنے جناب رعایت اللہ صاحب کے معاملات مقدمات وغیرہ میں آپ کو بحیثیت قاضی شرعی مقرر کرتا ہوں آپ جو شرعی طور سے فیصلہ ہم لوگوں کے دعوے جات پر کریں گے، ہمیں منظور ہو گا جس وقت آپ حکم دیں گے ہم اپنے دعوے آپ کے سامنے علیحدہ علیحدہ پیش کردیں گے، اللہ تعالیٰ ہم کو اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اس پر عالم صاحب نے ناراضگی…

جواب

عالم صاحب کو جب فیصلہ نزاع کے لئے تجویز کیا جاتا ہے، تو اس اعتماد پر تجویز کیا جاتا ہے، کہ وہ شرعی فیصلہ کریں گے، خواہ لفظ شرعی درخواست میں ہو یا نہ ہو اس سوءظن سے احتراز کیا جائے، کہ وہ شرعی فیصلہ نہیں کریں گے، اس خیال کو بھی نکال دیا جائے کہ وہ فریق ثانی کے طرف دار ہونے کی وجہ سے غیر شرعی فیصلہ کر دیں گے، ان عالم صاحب سے ہی توہین کا پہلو دریافت کر لیتے تو بہتر ہوتا، میرا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو