اگر قاضی کو دوسرے فریق پر اختیار حاصل نہ ہو
سوال
کسی ایسے قضیہ میں کہ جس کے دو فریق ہونے کی وجہ سے ایک پر قاضی عدالت کو اپنے فیصلہ منفذہ کے لئے اختیار نفاذ حاصل ہوا اور دوسرے فریق پر اختیار نفاذ حاصل نہ ہو، قاضی عدالت قضیہ مندرجہ بالا میں فیصلہ صادر فرمانے کے مجاز ہیں یا نہیں؟
جواب
قاضی اگر شرعی قاضی ہے، تو ایک فریق پر حکم نافذ ہونے کی قدرت ہونا اور دوسرے فریق پر قدرت نہ ہونا یہ کیسے ہوگا، اس کو واضح کریں یا قاضی شرعی نہیں، جس کے پاس قوت منفذہ ہو بلکہ ایک فریق نے اس کو قاضی بنایا ہے، دوسرے نے نہیں بنایا، تو وہ شرعی قاضی کہاں ہوا اس کو حکم کی صورت دی جاسکتی ہے، وہ بھی جب کہ فریقین متفق ہوں ورنہ اس کی حیثیت حکم کی بھی نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔