الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ہسپتال میں پیدا ہونے والے بچے کو مشتر کہ دودھ پلانا

سوال

برطانیہ کے ہسپتال میں یہ طریقہ رائج ہے کہ زچی خانہ میں بچے پیدا ہو جائے،اس کے بعد پانچ دس دن عورت کو اور بچے کو رکھتے ہیں، بعدۂ رخصت دیتے ہیں، مگر وہ بچہ جو پورے نو ماہ سے پہلے پیدا ہوا، یعنی سات ماہ میں تو اس بچے کی کمزوری کے پیش نظر بچے کو رکھ لیتے ہیں، اور کانچ کی مشین میں رکھتے ہیں، تاکہ برابر وزن اور تندرستی حاصل ہو جائے، اس اثناء جب تک ہو سکے ماں کا دودھ پلاتے ہیں، بوتل کے ذریعہ سے ماں اپنا دودھ نکال کر بوتل میں رکھ لیتی ہے اور نرس اس بچے کو پلاتی ہے، مگر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ عورت کو بالکل دودھ نہیں ہے…

جواب

(۱) ضرورہ درست ہے (۲) بوقت ضرورت اس کی اجازت ہے (۳) مدت رضاعت میں جس جس کا دودھ پیا ہے سب سے حرمت رضاعت متعلق ہوگی، یہی اصح واظہر واحوط ہے کمافی مجمع الانہر، ج ۱ ص ۳۷۹۔ جمع شدہ مخلوط دودھ یا کافرہ عورت کا دودھ پلانا اگر چہ درست ہے مگر احتیاط کی جائے تا کہ بچہ ان اثرات سے محفوظ رہے جیسا کہ احتیاطا بیوقوف عورت کا دودھ پلانے سے منع کیا گیا ہے،

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو