ہسپتال میں جمع شدہ دودھ سے رضاعت کا حکم
سوال
ہسپتال میں جو دودھ جمع ہے اس کے متعلق دریافت کرنا کہ کس کا ہے نا ممکن ہے کیونکہ دودھ جو ہسپتال میں جمع ہے وہ اور مخلوط دودھ میں امتیاز کرنا کہ کس عورت کا ہے، ممکن نہیں، لہذا ایسی صورت میں بچے کو پلانا جائز ہے یا نہیں اسی طرح اگر بچے کو پلایا تو مدت رضاعت ثابت ہوگی یا نہیں، براہ کرم اس مسئلہ پر روشنی ڈالئے عنایت ہوگی؟
جواب
جب تک متعین طور پر معلوم نہ ہو کہ اس لڑکی نے فلاں عورت کا دودھ پیا ہے، کسی لڑکے سے حرمت رضاعت کا حکم نہیں کیا جائے گا، فی فتاویٰ قاضی خاں صبية ارضعها قوم كثير من اهل القرية اقلهم او اكثرهم لا يدرى من ارضعها واراد واحد من اهل القرية ان يتزوجها قال ابو القاسم الصفار اذا لم تظهر له علامة ولا يشهد أحد له بذلك يجوز نكاحها وهذا من باب الرخصة كيلا يفسد باب النكاح اهـ الاشباه…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔