ایک چمچہ دوا کا اپنے دودھ کے ساتھ بچہ کو پلا دیا اس سے حرمت رضاعت
سوال
محمد شفیع کی اہلیہ نے اپنے چچا زاد بھائی نیز بہنوئی کے لڑکے محمد ابراہیم کو خارجی طور سے ایک چمچہ اپنا دودھ دوا کے ساتھ پلایا، جب محمد ابراہیم بارہ سال کے ہوئے، تو دونوں طرف کے ولیوں نے باہمی رشتہ جوڑا اور محمد ابراہیم کی شادی محمد شفیع کی لڑکی سے کر دی اور برادری کے افراد نے یہ کہا کہ دوا کے ساتھ تو پلایا ہے، اس سے رضاعت ثابت نہ ہوگی، اس کے علاوہ جو اس وقت لڑکی گود میں تھی، اس سے تو عقد نہیں ہو رہا ہے، برادری کے کہنے سے چار سال ہوئے، یہ شادی ہو گئی تھی، اب برادری نے یہ مسئلہ اٹھایا ہے جو لوگ اس وقت شادی کے جواز…
جواب
اگر دوا غالب تھی اور دودھ مغلوب تھا تو اس سے حرمت نہیں، اس کی وجہ سے شادی حرام نہیں، اگر دوا مغلوب اور دودھ غالب تھا تو حرمت رضاعت ثابت ہو گئی ہے اس صورت میں محمد شفیع کی بیوی رضاعی ماں ہوگی محمد ابراہیم کی محمد ابراہیم کی شادی محمد شفیع کی کسی لڑکی سے بھی جائز نہیں، وہ سب لڑکیاں محمد ابراہیم کی رضاعی بہنیں ہیں۔ يَحْرَمُ مِنَ الرِّضَاعِ مَا يَحْرَمُ مِنَ النَّسَبِ (الحدیث)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔