الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

عورت کا شوہر کو یہ جواب کہ توبہ نہیں کروں گی کیا تجدید ایمان وتجدید نکاح ضروری ہے؟

سوال

ایک شخص نے اپنی اہلیہ سے کسی گناہ پر تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ دیکھو جی توبہ کرلو۔ ویسے اس کی اہلیہ نیک ہے۔ مگر اس وقت مذاق سے کہدیا کہ میں توبہ نہیں کروں گی۔ پھر کہتے ہی اسی وقت ندامت ہو گئی اور توبہ کر لی۔ اس واقعہ کی وجہ سے اس کے ایمان میں کچھ خرابی آ کر نکاح میں کوئی فرق آ سکتا ہے یا نہیں؟ یا صرف گنہگار ہو گی؟

جواب

اگر شوہر نے کسی خاص گناہ سے متعلق کہا کہ اس گناہ سے توبہ کرلو اور وہ گناہ بیوی نے نہیں کیا تھا۔ بیوی نے کہا کہ میں توبہ نہیں کروں گی، تو اس کی وجہ سے اس کے ایمان میں خلل نہیں ہوگا اور اگر کسی خاص گناہ سے متعلق نہیں کہا بلکہ ویسے ہی کہا، جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو توبہ کرتے ہی رہنا چاہئے۔ اس پر یہ جواب دیا کہ توبہ نہیں کروں گی تو یہ بہت خطرناک ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو