تجدید ایمان وتجدید نکاح کی ضرورت کب ہوتی ہے؟
سوال
اس بارے میں حکم شرع سے مطلع فرمائیں، جس کا حوالہ ب ۹۲۱ مورخہ ۹/۱۷/ ھ ہے اس میں زید کو یہ پوچھنا ہے کہ جن صاحب اور جماعت نے عمداً یہ نکاح کیا اور کرایا ان کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے کیا وہ صرف توبہ واستغفار کے مستحق ہیں یا تجدید نکاح بھی کرنا ہے۔ علانیہ توبہ واستغفار کے علاوہ تجدید نکاح کا بھی حکم دیا جائے اس کے بارے میں تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں۔
جواب
کسی کی عدت میں نکاح ثانی جائز نہیں ہے۔ لا یجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة كذا في السراج الوهاج (از فتاوی عالمگیری) لہذا جو نکاح اس طرح کر دیا گیا وہ شرعاً معتبر نہیں ہوا بلکہ گناہ ہوا۔ مرد وعورت میں علیحد گی کرادی جائے، عدت ختم ہونے پر دوبارہ نکاح کیا جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔