الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شادی کی بعض رسوم

سوال

ہماری برادری میں حسب تفصیل امور پنچایت محلہ پلکھن تلہ سہارنپور نے اس طرح پر مقرر کئے ہیں۔ (۱) یہ کہ جب کسی کی شادی ہو تو منڈھے کا ہونا لازمی ہے۔ اہل شادی کولازم ہوگا کہ منڈھے کی تقریب میں بجائے مکانیہ کھانا کھلانے کے بوڑھے، بچہ، مرد، عورت کا کھانا بطور ہبہ کے ہر شخص کے مکان پر پہنچاوے اور کھانے کی رکابی میں کھانا چاول پلاؤ وغیرہ فی کس ڈیڑھ سیر پختہ وزن سے پختہ گھی سے کم نہ ہو اور یہ بھی قرار دیا ہے کہ اہل شادی کو لازم ہوگا کہ اگر کھانا پلاؤ کا ہوگا تو پلاؤ میں فی دیگ ڈھائی سیر پختہ گھی اور زردہ میں پانچ سیر گھی…

جواب

امور مذکورہ کی پابندی شرعاً کسی پر واجب نہیں جس چیز کو اللہ اور اس کے رسول نے منع فرمایا ہے اس میں برادری یا کسی اور کی اطاعت جائز نہیں۔ لاطاعة لمخلوق في معصية الخالق. یہ امور بدعت ناجائز اور گناہ ہیں ان پر اصرار گناہ پر گناہ ہے ایسی دعوت کا کھانا کسی طرح جائز نہیں۔ لا يجوز لاحد من المسلمين اخذ مال احد بغير سبب شرعى كذا في البحر عالمگیری ص ۸۷۷ ج ۲۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · اردو