الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شادی میں داماد سے زیور وغیرہ لینا

سوال

تقریباً پورے صوبہ گجرات میں یہ رواج ہے کہ جب منگنی ہوتی ہے تو اس وقت لڑکی کے لئے زیور اور کپڑا بنانے کے لئے ایک رقم طے ہوتی ہے وہ رقم لڑکا یا اس کا ولی دیتا ہے اور اس کو لچے اور پلہ کہتے ہیں وہ رقم حسب حیثیت جانبین دو سو چار سو ہزار دو ہزار بلکہ اس سے بھی زائد تک طے ہوتی ہے اور اس کے بغیر منگنی قبول نہیں ہوتی۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر اس رقم کے طے کرنے میں جانبین کا اتفاق نہ ہو تو منگنی قبول نہیں ہوتی اور انکار کر دیا جاتا ہے۔

جواب

لڑکے کے ذمہ مہر اور نان نفقہ کپڑا واجب ہوتا ہے، زیور وغیرہ شرعاً واجب نہیں اور نکاح سے قبل یا رخصتی سے قبل جو بعض جگہ لڑکے یا اس کے ولی سے کچھ لینے کا دستور ہے کہ بغیر اس کے رخصتی نہیں کرتے اس کی شرعاً کوئی اصل نہیں یہ لینا نا جائز ہے کیونکہ یہ رشوت ہے، رخصتی کے بعد لڑکی اپنی مرضی سے اگر زوج کو زیور دے یا روپیہ پیسہ دے تب بھی جائز ہے لیکن لڑکی کے باپ وغیرہ جو لڑکے سے وصول کرتے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو