الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

وکیل یا ولی کا مہر میں کمی کرنا

سوال

مسمی زید کی لڑکی مسماۃ بانو ہندہ کا عقد نکاح مسمی عمر کے لڑکے خالد کے ساتھ ہوا ہندہ سے بوقت اجازت وکیل نے مہر مامه ۱۵۳/- روپیہ کی اطلاع دی تھی۔ مجلس عقد میں وکیل نے ایک غیر شخص سے نکاح پڑھنے کو کہا عمرو کی طرف سے کہا گیا کہ مہر بجائے ماسہ ص کے ماسہ ص روپیہ کر دیئے جاویں۔ ہندہ کے باپ وکیل وشاہدین وجمله متعلقین مجلس از جانب ہندہ نے کہا کہ مامه ۱۵۲۔ روپیہ مہر کر دیئے جاویں کوئی عذر نہیں۔

جواب

اگر مہر کا نکاح میں بالکل ذکر نہ کیا جاوے یا صراحتہ مہر کی نفی کر دی جائے تب بھی شرعاً نکاح درست ہو جاتا ہے اور مہر مثل واجب ہوتا ہے۔ وکذا یجب مهر المثل فيما اذا لم يسم مهر اونفی در مختار ص ۵۱۷ ج ۲. لہذا صورت مسئولہ میں نکاح صحیح ہو گیا جس قدر مہر قرار پایا ہے اس میں سے کچھ کم کرنا بھی درست ہے اگر عورت تمام معاف کر دے تو یہ بھی جائز ہے مگر صورت مسئولہ میں ہندہ بالغہ ہے اور دو…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو