الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نا قابل جماع عورت کا نکاح ومہر

سوال

زید نے ایک عورت سے شادی کی اس عورت کو جب اپنے گھر لایا تو اس میں کوئی علامت عورت ہونے کی نہیں پائی یعنی پستان بالکل نہیں ایام ماہواری تیس سال کی عمر تک نہیں ہوئے۔ جائے مخصوص اس طریق پر واقع ہوئی ہے۔ ۵۰. جس سے مجامعت نہیں ہو سکتی اور اس مقام پر ہڈی ہے جو قابل آپریشن نہیں ہے اب اس عورت کے والدین اس عورت کا علاج کر رہے ہیں اور اس کی کوشش ہے کہ جائے مخصوص صحبت کے قابل ہو جائے۔ مگر عرصہ دس ماہ گذرا آرام نہیں ہوا۔ اگر جائے مخصوص قابل جماع ہو جائے تو مجامعت جائز ہوگی جب کہ ڈاکٹرنی کہتی ہے کہ اس سے اولاد نہ ہوگی۔

جواب

صورت مسئولہ میں اگر معالجہ کے بعد وہ عورت مرد کی مجامعت کے قابل ہو جائے تو مرد کو اس سے صحبت درست ہوگی۔ اولاد ہونے کی توقع ہو یا نہ ہو۔ نکاح کی غایت جیسے توالد وتناسل ہے اسی طرح حرام سے بچنا اور عفت سے رہنا بھی ہے اور اس وقت بھی مہر پورا واجب ہوگا اور جو خون آتا ہے اگر وہ دواء یا رگڑ وغیرہ کی وجہ سے آتا ہے تو اس کو حیض نہیں کہا جائے گا اور اگر بلا رگڑ ہی آتا ہے اور اقل مدت حیض…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو