بدل مہر دینے کے بعد زوجہ کا حق ختم ہے
سوال
نورخاں اپنی عورت نذیرن کو کسی وجہ سے برادری کے پانچ آدمیوں کے سامنے شریعت کے مطابق چھ سال پہلے طلاق دے چکا ہے اور مہر ساڑھے بتیس روپے کا تھا۔ بتیس روپے کے بجائے اس نے مہر میں ۸۵ رتی چاندی کا زیور ادا کر دیا تھا۔ اب میرے خلاف خرچہ بندھوانے کے لئے چھ سال کے بعد عدالت میں دعوی کر دیا ہے آپ حضرات سے میری گذارش ہے کہ شریعت کے مطابق مجھے خرچ دینے کا حق ہے یا نہیں اگر شریعت کے مطابق مجھے خرچ دینے کا حق نہیں ہے تو آپ کے یہاں کی سند کی ضرورت ہے۔ فتوی بھیجنے کی جلدی سے مہربانی کریں۔
جواب
جب کہ آپ نے مہر کے عوض پچاسی ۸۵ رتی چاندی کا زیور دیا اور اس نے قبول کر لیا تو آپ بری الذمہ ہو گئے۔ اب آپ پر دعوی کرنا غلط ہے۔ آپ کے ذمہ کچھ لازم نہیں۔ مہر کی کم سے کم مقدار دس درہم ہے جو پونے تین تولہ کے قریب ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔