الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مہر کو بطور نفقہ ادا کرنا

سوال

بکر نے عرصہ ۳۳ سال کا ہوا اپنا نکاح ایک بیوہ سے کیا بعوض مبلغ ۱۱۰۰ار روپیہ اور طے ہوا کہ ایک دختر جس کی عمر ۱۱ سال ہے عنقریب شادی ہوکر اپنے خاوند کے یہاں چلی جاوے گی۔ دوسرا لڑکا جس کی عمر ۷ سال ہے اپنے ماموں کے ہمراہ رہے گا تیسرا لڑکا جس کی عمر ۳ سال ہے بیوہ کے ہمراہ رہے گا۔ بعد نکاح بیوہ نے اپنے ہر سہ بچوں کو اپنے ہمراہ رکھا اور سب کا خرچہ شوہر ثانی کے ذمہ رہا۔

جواب

نفقہ عورت کا اور جس کا اس کے ذمہ ہے اس کے علاوہ جو کچھ شوہر نے اس کو دیا ہے اس کو مہر میں محسوب کرنا درست ہے اور صورت مسئولہ میں چونکہ پہلے کہہ دیا گیا ہے اور عورت نے اس کو رد نہیں کیا ہے بلکہ اس کے موافق عمل کرتی رہی تو رقم مذکورہ اگر نفقہ واجبہ کے علاوہ عورت کے پاس پہونچی تو مہر ادا ہو چکا اور ۶۰ / روپے زائد پہونچے اگر نفقہ واجبہ بھی اسی میں ہے تو اس کو منہا کیا جائے گا اور…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو