زوجہ اگر وصول نہ کرے تو زوج مہر کس طرح ادا کرے
سوال
مسماۃ ہندہ کو طلاق لئے ہوئے دو برس ہو چکے ہیں۔ دین مہر نہ وہ لیتی ہے اور نہ ہی صاف الفاظ میں منع کرتی ہے بلکہ یہ کہدیتی ہے کہ میں اپنا بدلہ آخرت میں لوں گی زید دین مہر سے اپنی زندگی میں سبکدوش ہونا چاہتا ہے اور ہندہ سے بار بار لجاجت کرتا ہے کہ کسی طرح وہ اپنا قرض وصول کرلے۔ چنانچہ بذریعہ ڈاک بیمہ رقم دین مہر زید نے ہندہ کو پہونچادی مگر ہندہ نے اپنی کسی مصلحت کی بناء پر رقم ارسال کردہ بیمہ واپس کر دی کہ مجھے تمہارے اس روپے کی ضرورت نہیں میں اپنا بدلہ خدا کے یہاں آخرت میں لوں گی اس اثناء میں زید نے مصالحت کرنے کی…
جواب
اگر ہندہ دین مہر کو معاف نہیں کرتی اور وصول بھی نہیں کرتی تو زید کو چاہئے کہ مہر کی رقم ہندہ کے سامنے اس طرح رکھدے کہ اگر وہ ہاتھ بڑھا کر اٹھانا چاہے تو اٹھالے اور اس کے بعد ہندہ کو اختیار ہے خواہ اٹھائے خواہ نہ اٹھائے۔ اس طرح اس کے سامنے رکھ دینے سے زید بری ہو جائے گا اور آخرت کا بار اس کے ذمہ نہیں ہوگا اور محض وصول کرنے سے انکار کی وجہ سے معافی نہ ہوگی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔