الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قوم کی طرف سے مہر کی تعیین اور اس کے خلاف پر جرمانہ

سوال

قوم کے سر بر آوردہ لوگوں نے یہ تجویز پاس کی ہے کہ آئندہ سب لوگوں کو اپنی اولاد کے نکاح ۲۵ روپیہ سے زیادہ کی رقم پر نہ کرنا چاہئے چنانچہ تمام قوم اس کی پابند ہے مخالف پر جرمانہ وغیرہ کیا جاتا ہے۔ تو تعیین مہر کا ان لوگوں کو حق ہے یا نہیں۔ صحت نکاح میں کوئی خرابی ہے یا نہیں؟

جواب

مہر فاطمی مقرر کرنا افضل ہے اور کم از کم وسعت سے زیادہ مقرر نہ کیا جاوے۔ کیوں کہ اس میں بہت سے مفاسد ہیں۔ مال کا جرمانہ شرعاً جائز نہیں قال ابن النجيم بعد بحث والحاصل ان المذهب عدم التعزير باخذ المال. بحر ص ۴۱ ج ۵. قوم کی اس تجویز سے نکاح میں کوئی خرابی نہیں آتی

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو