مہر قسطوار اور نفقہ
سوال
زید نے زاہدہ بی بی کو نو ۹/ ماہ کے حمل کی مدت میں اس کی بداخلاقی کی بنا پر مجبور ہو کر طلاق دیدی، اس کا مہر دینے کے لئے تیار نہیں۔ لیکن زاہدہ کے میکے والے بہت زیادہ زور ڈال کر مہر ایک مشت لینا چاہتے ہیں۔ لیکن زید اپنی غربت سے مجبور ہے۔ زید کی خانگی زندگی زاہدہ کی بد اخلاقی اور کمینگی کی بنا پر جہنم کا نمونہ بن گئی تھی۔ زید صرف ۱۲۰ روپئے پر ایک جگہ ملازمت کرتا ہے۔ ایسی صورت میں اسے والد اور ایک غیر شادی شدہ بہن کا بھی خرچہ برداشت کرنا پڑ رہا ہے جس سے ایک مشت مہر دینے سے مجبور ہے، اس کی کوئی صورت بتائیں۔
جواب
شادی سے پہلے لڑکی کے اخلاق اور دینداری کی تحقیق کی ضرورت تھی۔ اس سے غفلت اختیار کی گئی جس کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ پھر طلاق دینے سے پہلے سوچنے کی ضرورت تھی کہ مہر کیسے ادا کیا جائے گا، نفقہ عدت کہاں سے دیا جائے گا، بچے کے خرچ کا انتظام کیا ہوگا، والد اور بہن کی، ضرورت کس طرح پوری ہوگی، خود کیا کھائیں گے۔ بغیر انجام پر نظر کئے ہوئے قدم اٹھانے پر پشیمانی ہوتی ہے اور پریشانی بھی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔