مقدار مہر کو مقرر کر دینا
سوال
کیا کسی فرد یا جماعت کو مہر کی ایک حد مقرر کرنے کا حق حاصل ہے جب کہ اس قسم کی تحدید پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی اور صاحب اختیار خلیفہ نے اپنا حکم واپس لے لیا تھا اور دوبارہ منبر پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تھا”فمن شاء ان يعطى ما احب“
جواب
حیثیت سے زیادہ مہر مقرر کرنا شرعاً پسندیدہ نہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے منع فرمایا ہے لیکن کسی فرد کو یا کسی جماعت کو یہ حق نہیں ہے کہ سب برادری کے لئے مہر کی کوئی خاص مقدار مقرر کر دے کہ اس سے کمی زیادتی کی اجازت ہی نہ رہے اور ہر شخص خواہ مخواہ ہی اسی مقدار پر مجبور ہو جائے البتہ شریعت نے کم سے کم مقدار دس درہم مقرر کی ہے اس سے کم درست نہیں، زیادہ کی مقدار مقرر نہیں کی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔