جس زمین کا مہر میں وعدہ کیا جائے اس کا دینا ضروری ہے
سوال
ایک بیوہ ہے جس کے تین جیٹھ دیور موجود ہیں نکاح کرنے کے لئے بڑی کوشش کرتے رہے مگر اس نے نکاح کرنے سے انکار کیا۔ اتفاق سے اس کے نام ایک چوتھائی حصہ زمین کا چڑھ گیا اور وہ زمین کے فروخت کی کوشش میں لگی۔ جیٹھ دیور کو جب معلوم ہوا تو پھر بہت نکاح کی کوشش کی، اس نے بڑی مشکل سے نکاح کو کہا اور یہ بھی کہا کہ نکاح میرا نہیں ہوتا یہ تو زمین کا نکاح ہوتا ہے مگر شریعت سے اس کو زمین کا حق نہیں پہونچتا۔ فقط اس کے ایک لڑکی ہے۔ مگر ان جیٹھ دیوروں نے وعدہ کیا کہ ہم تجھے پندرہ بیگہ زمین مہر میں دیں گے۔
جواب
مہر میں جتنی زمین مقرر کی گئی ہے وہ بھی اس کا حق ہے اس کو دینا لازم ہے، ورنہ اس کا وبال سخت ہوگا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔