الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

عورت کے مرتد ہونے سے مہر ساقط نہیں ہوتا

سوال

ایک عورت شادی کے بہت دن بعد مرتد ہو گئی۔ اب شوہر سے مہر کا مطالبہ کرتی ہے۔ کیا اس عورت کو مہر ملے گا یا نہیں؟

جواب

ردت اختیار کرنے سے فرقت واقع نہیں ہوئی۔ سابق نکاح بدستور باقی ہے۔ (مختار قول پر) دوسرے شخص سے نکاح کی ہرگز اجازت نہیں اور عورت کو پورا مہر ملے گا۔ کیونکہ شادی کے بعد شوہر کے وطی کرنے کی وجہ سے مہر مؤکد ہو چکا۔ كما في درالمختار على هامش ردالمحتار ص ۵۴۰ ج ۲ وافتی مشائخ بلخ بعدم الفرقة بردتها زجراً وتيسيراً ولا تتزوج لغيره به یفتی ملتقط ص ۲۶۳ ج ۲ فللموطوءة ولوحكما كل مهرها…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو