الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بیوی سامان لے کر چلی گئی

سوال

میری بیوی کو اس کا بھائی سکھا کر یکم جولائی ۱۹۶۷ء کو میری عدم موجودگی میں میری اجازت کے بغیر گھر سے لے گیا۔ یہ دونوں اپنے ہمراہ سولہ سو روپے کے زیورات اور سوا سو روپے کی گھڑی اور پانچ صدر روپیہ نقد لے گئے۔ کچھ دنوں کے بعد جب میں بریلی بیوی کو لینے گیا اور سسر وغیرہ سے بھیجنے کی بابت بات ہوئی تو انھوں نے صاف انکار کر دیا کہ ان کی نیت ان سب چیزوں کے رکھنے کی تھی اور ساتھ ہی مہر جو کہ معجل ہے ان کے وصول کی فکر ہے جب کہ میری طرف سے نان ونفقہ ودیگر ضروریات زندگی کی کوئی پریشانی نہیں ہے۔

جواب

مہر معجل وصول کرنے کا اس کو حق ہے آپ کا جو جو سامان گھڑی، زیور اور نقد اس نے بغیر آپ کی اجازت کے لیا ہے آپ اس سے واپس لے سکتے ہیں اور مہر میں محسوب کر سکتے ہیں آپ اس کو سمجھا کر نرمی اور محبت سے اپنے مکان پر بلالیں۔حسنِ اخلاق کا معاملہ کریں تو انشاء اللہ حالات میں تغیر پیدا ہوگا

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو