الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نشوز سے مہر ساقط نہیں ہوتا

سوال

یہاں پر ایک لڑکی اپنے شوہر کے مکان سے بلا اجازت میکہ چلی گئی ہے۔ لڑکی کے سسر کا کہنا ہے کہ لڑکی جھگڑالو ہے اور نا فرمان ہے، بلا اجازت میکہ چلی گئی ہے اس لئے مہر کے حاصل کرنے کا حق نہیں رکھتی۔ علاوہ ازیں لڑکی والوں کا کہنا ہے کہ لڑکی بلا اجازت نہیں گئی ہے بلکہ اپنے سسر وغیرہ کے ظلم وزیادتی کی وجہ سے آئی ہے۔ ہم لڑکی کو شوہر کے حوالہ کرنا چاہتے ہیں اور شوہر بھی اس سے راضی ہے مگر سسر لڑکی کو پسند نہیں کرتے۔ یہ لوگ نہ لڑکی کو رکھنا چاہتے ہیں اور نہ اس کا مہر دیتے ہیں۔ ایسی صورت میں لڑکی پر ظلم وزیادتی ہے یا نہیں؟

جواب

نفس مہر تو محض نکاح سے لازم ہو جاتا ہے۔ پھر شوہر بیوی جب تنہائی میں جمع ہو جائیں تو مہر مؤکد اور پختہ ہو جاتا ہے اگر بیوی نافرمانی کرے اور شوہر کوستائے تو وہ گنہگار ہوگی، نالائق کہلائے گی۔ اگر شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے مکان سے اپنے والد وغیرہ کے گھر چلی جائے تو وہ نفقہ خرچہ کی مستحق نہیں ہوگی، جب تک شوہر کے مکان پر واپس نہ آ جائے لیکن مہر ساقط نہیں ہوگا۔ وہ اس کا حق لازم ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو