بیوی کی طرف سے معافی مہر کی شرط
سوال
پیر محمد کی بیوی کا والد منفعت خاں اپنی لڑکی کو لینے آیا پیرمحمد کو چونکہ بعض وجوہ کی وجہ سے اندیشہ تھا کہ وہ اپنی لڑکی کو لیجا کر نہیں بھیجیں گے اس لئے اس کے والد اور خود بیوی سے اپنے اطمینان کی غرض سے اس مضمون کی تحریر لکھائی کہ ”اپنی لڑکی غلام فاطمہ کو اپنے گھر لیجا رہا ہوں اور میں جا رہی ہوں اگر پندرہ یوم کے اندر واپس نہ بھیجدوں یا نہ آئیں تو ہمارا زر مہر وخرچ وغیرہ کا کوئی دعوی پیر بخش پر نہ ہوگا یعنی مہر ہم دونوں کی جانب سے معاف سمجھا جاوے گا۔
جواب
تحریر مذکور میں طلاق کا ذکر تک بھی نہیں لہذا اس تحریر سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی نیز یہ کہ یہ تحریر عورت اور اس کے والد کی طرف سے ہے طلاق کا حق شوہر کو ہوتا ہے البتہ عورت کو مہر معاف کرنے کا حق ہوتا ہے خواہ بلا شرط معاف کرے خواہ کسی شرط سے معاف کرے شرط مذکور کا اعتبار کرتے ہوئے عورت کو مہر کے مطالبہ کا حق حاصل نہیں رہا نہ اس سے نفقہ طلب کر سکتی ہے کیونکہ شوہر کی مرضی کے خلاف…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔