الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بالغہ لڑکی کا نکاح غیر کفو میں

سوال

ایک لڑکی آگرہ ہوسٹل میں نرس کی ٹریننگ کر رہی تھی۔ دوران ٹریننگ ایک لڑکا ملا جس نے اپنے آپ کو سی آئی ڈی انسپکٹر بتایا۔ ذات سید بتائی اور بغیر شادی شدہ بتایا۔ لڑکی بھی سید کی تھی۔ پھر اسی دوران نکاح ہو گیا۔ آگرہ میں لڑکی کے والدین کو کوئی اطلاع نہیں۔ پھر لڑکی کا کہنا ہے کہ مجھے وکیل گواہ بھی معلوم نہیں کہ کون بنا صرف ایک جگہ دستخط کرائے گئے نکاح لڑکے نے کسی غیر آدمی کے گھر پر کرایا۔ لڑکا میرٹھ کا رہنے والا ہے۔ جب لڑکی چھٹی لے کر لڑکے کے گھر پر آئی تب لڑکی کو سب حقیقت معلوم ہوئی کہ دھوکا ہوا ہے۔

جواب

سید کی لڑکی کا جولاہا کفو نہیں بالغہ لڑکی غیر کفو میں نکاح کرے تو بغیر ولی کی اجازت کے مفتی بہ قول پر منعقد نہیں ہوتا۔ لہذا یہ نکاح شرعاً منعقد نہیں ہوا طلاق کی بھی ضرورت نہیں۔ کسی مناسب جگہ لڑکی کا نکاح کر دیا جائے

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو