غیر کفو میں نکاح
سوال
ایک شخص قوم جندروں کہ اس کے والد کے عزیز اور رشتہ دار تیلی کا کام کرتے ہیں ایک لڑکی بعمر ۱۵/۱۴ سالہ قوم سید صحیح النسب اہل سنت والجماعت حنفی المذہب کو چوری سے بوقت نیم شب نکال کر لیجاتا ہے اگر شخص مذکور لڑکی مذکورہ سے نکاح کر لیوے آیا جائز رہ سکتا ہے یا نہیں بطور کفو کے اور شخص مذکور بد چلن بد معاش اور شراب خور ہے اور کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے ویسے ہی فارغ پھرتا ہے۔ بینوا توجروا
جواب
مفتی بہ قول کی بناء پر یہ نکاح صحیح نہیں ہوگا۔ البتہ اگر لڑکی کے اولیاء اس نکاح سے رضامند ہیں یا اس کے کوئی ولی نہیں ہے تو یہ نکاح صحیح ہوگا۔ ویفتى في غير الكفو بعدم جوازه اصلاً وهوالمختار للفتوى لفساد الزمان درمختار وقال الشامى وهذا اذا كان لها ولى لم يرض به قبل العقد فلا يفيد الرضا بعده (بحر)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔